اردو
سورة واقعه - عدد الآيات 96
إِذَا وَقَعَتِ ٱلۡوَاقِعَةُ ﰀ ﴿١﴾
جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے
لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ ﰁ ﴿٢﴾
اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں
خَافِضَةٞ رَّافِعَةٌ ﰂ ﴿٣﴾
کسی کو پست کرے کسی کو بلند
إِذَا رُجَّتِ ٱلۡأَرۡضُ رَجّٗا ﰃ ﴿٤﴾
جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے
وَبُسَّتِ ٱلۡجِبَالُ بَسّٗا ﰄ ﴿٥﴾
اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں
فَكَانَتۡ هَبَآءٗ مُّنۢبَثّٗا ﰅ ﴿٦﴾
پھر غبار ہو کر اُڑنے لگیں
وَكُنتُمۡ أَزۡوَٰجٗا ثَلَٰثَةٗ ﰆ ﴿٧﴾
فَأَصۡحَٰبُ ٱلۡمَيۡمَنَةِ مَآ أَصۡحَٰبُ ٱلۡمَيۡمَنَةِ ﰇ ﴿٨﴾
تو داہنے ہاتھ والے (سبحان الله) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی چین میں) ہیں
وَأَصۡحَٰبُ ٱلۡمَشۡـَٔمَةِ مَآ أَصۡحَٰبُ ٱلۡمَشۡـَٔمَةِ ﰈ ﴿٩﴾
اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (گرفتار عذاب) ہیں
وَٱلسَّٰبِقُونَ ٱلسَّٰبِقُونَ ﰉ ﴿١٠﴾
اور جو آگے بڑھنے والے ہیں (ان کا کیا کہنا) وہ آگے ہی بڑھنے والے ہیں
أُوْلَٰٓئِكَ ٱلۡمُقَرَّبُونَ ﰊ ﴿١١﴾
فِي جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ ﰋ ﴿١٢﴾
ثُلَّةٞ مِّنَ ٱلۡأَوَّلِينَ ﰌ ﴿١٣﴾
وہ بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہوں گے
وَقَلِيلٞ مِّنَ ٱلۡأٓخِرِينَ ﰍ ﴿١٤﴾
اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے
عَلَىٰ سُرُرٖ مَّوۡضُونَةٖ ﰎ ﴿١٥﴾
(لعل و یاقوت وغیرہ سے) جڑے ہوئے تختوں پر
مُّتَّكِـِٔينَ عَلَيۡهَا مُتَقَٰبِلِينَ ﰏ ﴿١٦﴾
آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے
يَطُوفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَٰنٞ مُّخَلَّدُونَ ﰐ ﴿١٧﴾
نوجوان خدمت گزار جو ہمیشہ (ایک ہی حالت میں) رہیں گے ان کے آس پاس پھریں گے
بِأَكۡوَابٖ وَأَبَارِيقَ وَكَأۡسٖ مِّن مَّعِينٖ ﰑ ﴿١٨﴾
یعنی آبخورے اور آفتابے اور صاف شراب کے گلاس لے لے کر
لَّا يُصَدَّعُونَ عَنۡهَا وَلَا يُنزِفُونَ ﰒ ﴿١٩﴾
اس سے نہ تو سر میں درد ہوگا اور نہ ان کی عقلیں زائل ہوں گی
وَفَٰكِهَةٖ مِّمَّا يَتَخَيَّرُونَ ﰓ ﴿٢٠﴾
اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں
وَلَحۡمِ طَيۡرٖ مِّمَّا يَشۡتَهُونَ ﰔ ﴿٢١﴾
اور پرندوں کا گوشت جس قسم کا ان کا جی چاہے
وَحُورٌ عِينٞ ﰕ ﴿٢٢﴾
اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں
كَأَمۡثَٰلِ ٱللُّؤۡلُوِٕ ٱلۡمَكۡنُونِ ﰖ ﴿٢٣﴾
جیسے (حفاظت سے) تہہ کئے ہوئے (آب دار) موتی
جَزَآءَۢ بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ﰗ ﴿٢٤﴾
یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے
لَا يَسۡمَعُونَ فِيهَا لَغۡوٗا وَلَا تَأۡثِيمًا ﰘ ﴿٢٥﴾
وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے اور نہ گالی گلوچ
إِلَّا قِيلٗا سَلَٰمٗا سَلَٰمٗا ﰙ ﴿٢٦﴾
ہاں ان کا کلام سلام سلام (ہوگا)
وَأَصۡحَٰبُ ٱلۡيَمِينِ مَآ أَصۡحَٰبُ ٱلۡيَمِينِ ﰚ ﴿٢٧﴾
اور داہنے ہاتھ والے (سبحان الله) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی عیش میں) ہیں
فِي سِدۡرٖ مَّخۡضُودٖ ﰛ ﴿٢٨﴾
وَطَلۡحٖ مَّنضُودٖ ﰜ ﴿٢٩﴾
وَظِلّٖ مَّمۡدُودٖ ﰝ ﴿٣٠﴾
وَمَآءٖ مَّسۡكُوبٖ ﰞ ﴿٣١﴾
وَفَٰكِهَةٖ كَثِيرَةٖ ﰟ ﴿٣٢﴾
اور میوہ ہائے کثیرہ (کے باغوں) میں
لَّا مَقۡطُوعَةٖ وَلَا مَمۡنُوعَةٖ ﰠ ﴿٣٣﴾
جو نہ کبھی ختم ہوں اور نہ ان سے کوئی روکے
وَفُرُشٖ مَّرۡفُوعَةٍ ﰡ ﴿٣٤﴾
اور اونچے اونچے فرشوں میں
إِنَّآ أَنشَأۡنَٰهُنَّ إِنشَآءٗ ﰢ ﴿٣٥﴾
ہم نے ان (حوروں) کو پیدا کیا
فَجَعَلۡنَٰهُنَّ أَبۡكَارًا ﰣ ﴿٣٦﴾
عُرُبًا أَتۡرَابٗا ﰤ ﴿٣٧﴾
(اور شوہروں کی) پیاریاں اور ہم عمر
لِّأَصۡحَٰبِ ٱلۡيَمِينِ ﰥ ﴿٣٨﴾
یعنی داہنے ہاتھ والوں کے لئے
ثُلَّةٞ مِّنَ ٱلۡأَوَّلِينَ ﰦ ﴿٣٩﴾
(یہ) بہت سے اگلے لوگوں میں سے ہیں
وَثُلَّةٞ مِّنَ ٱلۡأٓخِرِينَ ﰧ ﴿٤٠﴾
وَأَصۡحَٰبُ ٱلشِّمَالِ مَآ أَصۡحَٰبُ ٱلشِّمَالِ ﰨ ﴿٤١﴾
اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (ہی عذاب میں) ہیں
فِي سَمُومٖ وَحَمِيمٖ ﰩ ﴿٤٢﴾
(یعنی دوزخ کی) لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی میں
وَظِلّٖ مِّن يَحۡمُومٖ ﰪ ﴿٤٣﴾
اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں
لَّا بَارِدٖ وَلَا كَرِيمٍ ﰫ ﴿٤٤﴾
(جو) نہ ٹھنڈا (ہے) نہ خوشنما
إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَبۡلَ ذَٰلِكَ مُتۡرَفِينَ ﰬ ﴿٤٥﴾
یہ لوگ اس سے پہلے عیشِ نعیم میں پڑے ہوئے تھے
وَكَانُواْ يُصِرُّونَ عَلَى ٱلۡحِنثِ ٱلۡعَظِيمِ ﰭ ﴿٤٦﴾
اور گناہ عظیم پر اڑے ہوئے تھے
وَكَانُواْ يَقُولُونَ أَئِذَا مِتۡنَا وَكُنَّا تُرَابٗا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَبۡعُوثُونَ ﰮ ﴿٤٧﴾
اور کہا کرتے تھے کہ بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے اور ہڈیاں (ہی ہڈیاں رہ گئے) تو کیا ہمیں پھر اُٹھنا ہوگا؟
أَوَءَابَآؤُنَا ٱلۡأَوَّلُونَ ﰯ ﴿٤٨﴾
اور کیا ہمارے باپ دادا کو بھی؟
قُلۡ إِنَّ ٱلۡأَوَّلِينَ وَٱلۡأٓخِرِينَ ﰰ ﴿٤٩﴾
کہہ دو کہ بےشک پہلے اور پچھلے
لَمَجۡمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَٰتِ يَوۡمٖ مَّعۡلُومٖ ﰱ ﴿٥٠﴾
(سب) ایک روز مقرر کے وقت پر جمع کئے جائیں گے
ثُمَّ إِنَّكُمۡ أَيُّهَا ٱلضَّآلُّونَ ٱلۡمُكَذِّبُونَ ﰲ ﴿٥١﴾
پھر تم اے جھٹلانے والے گمرا ہو!
لَأٓكِلُونَ مِن شَجَرٖ مِّن زَقُّومٖ ﰳ ﴿٥٢﴾
فَمَالِـُٔونَ مِنۡهَا ٱلۡبُطُونَ ﰴ ﴿٥٣﴾
فَشَٰرِبُونَ عَلَيۡهِ مِنَ ٱلۡحَمِيمِ ﰵ ﴿٥٤﴾
اور اس پر کھولتا ہوا پانی پیو گے
فَشَٰرِبُونَ شُرۡبَ ٱلۡهِيمِ ﰶ ﴿٥٥﴾
اور پیو گے بھی تو اس طرح جیسے پیاسے اونٹ پیتے ہیں
هَٰذَا نُزُلُهُمۡ يَوۡمَ ٱلدِّينِ ﰷ ﴿٥٦﴾
جزا کے دن یہ ان کی ضیافت ہوگی
نَحۡنُ خَلَقۡنَٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُونَ ﰸ ﴿٥٧﴾
ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا ہے تو تم (دوبارہ اُٹھنے کو) کیوں سچ نہیں سمجھتے؟
أَفَرَءَيۡتُم مَّا تُمۡنُونَ ﰹ ﴿٥٨﴾
دیکھو تو کہ جس (نطفے) کو تم (عورتوں کے رحم میں) ڈالتے ہو
ءَأَنتُمۡ تَخۡلُقُونَهُۥٓ أَمۡ نَحۡنُ ٱلۡخَٰلِقُونَ ﰺ ﴿٥٩﴾
کیا تم اس (سے انسان) کو بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں؟
نَحۡنُ قَدَّرۡنَا بَيۡنَكُمُ ٱلۡمَوۡتَ وَمَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوقِينَ ﰻ ﴿٦٠﴾
ہم نے تم میں مرنا ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس (بات) سے عاجز نہیں
عَلَىٰٓ أَن نُّبَدِّلَ أَمۡثَٰلَكُمۡ وَنُنشِئَكُمۡ فِي مَا لَا تَعۡلَمُونَ ﰼ ﴿٦١﴾
کہ تمہاری طرح کے اور لوگ تمہاری جگہ لے آئیں اور تم کو ایسے جہان میں جس کو تم نہیں جانتے پیدا کر دیں
وَلَقَدۡ عَلِمۡتُمُ ٱلنَّشۡأَةَ ٱلۡأُولَىٰ فَلَوۡلَا تَذَكَّرُونَ ﰽ ﴿٦٢﴾
اور تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے۔ پھر تم سوچتے کیوں نہیں؟
أَفَرَءَيۡتُم مَّا تَحۡرُثُونَ ﰾ ﴿٦٣﴾
بھلا دیکھو تو کہ جو کچھ تم بوتے ہو
ءَأَنتُمۡ تَزۡرَعُونَهُۥٓ أَمۡ نَحۡنُ ٱلزَّٰرِعُونَ ﰿ ﴿٦٤﴾
تو کیا تم اسے اُگاتے ہو یا ہم اُگاتے ہیں؟
لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَٰهُ حُطَٰمٗا فَظَلۡتُمۡ تَفَكَّهُونَ ﱀ ﴿٦٥﴾
اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کردیں اور تم باتیں بناتے رہ جاؤ
إِنَّا لَمُغۡرَمُونَ ﱁ ﴿٦٦﴾
(کہ ہائے) ہم تو مفت تاوان میں پھنس گئے
بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُومُونَ ﱂ ﴿٦٧﴾
أَفَرَءَيۡتُمُ ٱلۡمَآءَ ٱلَّذِي تَشۡرَبُونَ ﱃ ﴿٦٨﴾
بھلا دیکھو تو کہ جو پانی تم پیتے ہو
ءَأَنتُمۡ أَنزَلۡتُمُوهُ مِنَ ٱلۡمُزۡنِ أَمۡ نَحۡنُ ٱلۡمُنزِلُونَ ﱄ ﴿٦٩﴾
کیا تم نے اس کو بادل سے نازل کیا ہے یا ہم نازل کرتے ہیں؟
لَوۡ نَشَآءُ جَعَلۡنَٰهُ أُجَاجٗا فَلَوۡلَا تَشۡكُرُونَ ﱅ ﴿٧٠﴾
اگر ہم چاہیں تو ہم اسے کھاری کردیں پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے؟
أَفَرَءَيۡتُمُ ٱلنَّارَ ٱلَّتِي تُورُونَ ﱆ ﴿٧١﴾
بھلا دیکھو تو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو
ءَأَنتُمۡ أَنشَأۡتُمۡ شَجَرَتَهَآ أَمۡ نَحۡنُ ٱلۡمُنشِـُٔونَ ﱇ ﴿٧٢﴾
کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں؟
نَحۡنُ جَعَلۡنَٰهَا تَذۡكِرَةٗ وَمَتَٰعٗا لِّلۡمُقۡوِينَ ﱈ ﴿٧٣﴾
ہم نے اسے یاد دلانے اور مسافروں کے برتنے کو بنایا ہے
فَسَبِّحۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلۡعَظِيمِ ﱉ ﴿٧٤﴾
تو تم اپنے پروردگار بزرگ کے نام کی تسبیح کرو
۞ فَلَآ أُقۡسِمُ بِمَوَٰقِعِ ٱلنُّجُومِ ﱊ ﴿٧٥﴾
ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم
وَإِنَّهُۥ لَقَسَمٞ لَّوۡ تَعۡلَمُونَ عَظِيمٌ ﱋ ﴿٧٦﴾
اور اگر تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے
إِنَّهُۥ لَقُرۡءَانٞ كَرِيمٞ ﱌ ﴿٧٧﴾
کہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے
فِي كِتَٰبٖ مَّكۡنُونٖ ﱍ ﴿٧٨﴾
(جو) کتاب محفوظ میں (لکھا ہوا ہے)
لَّا يَمَسُّهُۥٓ إِلَّا ٱلۡمُطَهَّرُونَ ﱎ ﴿٧٩﴾
اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں
تَنزِيلٞ مِّن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ﱏ ﴿٨٠﴾
پروردگار عالم کی طرف سے اُتارا گیا ہے
أَفَبِهَٰذَا ٱلۡحَدِيثِ أَنتُم مُّدۡهِنُونَ ﱐ ﴿٨١﴾
کیا تم اس کلام سے انکار کرتے ہو؟
وَتَجۡعَلُونَ رِزۡقَكُمۡ أَنَّكُمۡ تُكَذِّبُونَ ﱑ ﴿٨٢﴾
اور اپنا وظیفہ یہ بناتے ہو کہ (اسے) جھٹلاتے ہو
فَلَوۡلَآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلۡحُلۡقُومَ ﱒ ﴿٨٣﴾
بھلا جب روح گلے میں آ پہنچتی ہے
وَأَنتُمۡ حِينَئِذٖ تَنظُرُونَ ﱓ ﴿٨٤﴾
اور تم اس وقت کی (حالت کو) دیکھا کرتے ہو
وَنَحۡنُ أَقۡرَبُ إِلَيۡهِ مِنكُمۡ وَلَٰكِن لَّا تُبۡصِرُونَ ﱔ ﴿٨٥﴾
اور ہم اس (مرنے والے) سے تم سے بھی زیادہ نزدیک ہوتے ہیں لیکن تم کو نظر نہیں آتے
فَلَوۡلَآ إِن كُنتُمۡ غَيۡرَ مَدِينِينَ ﱕ ﴿٨٦﴾
پس اگر تم کسی کے بس میں نہیں ہو
تَرۡجِعُونَهَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ﱖ ﴿٨٧﴾
تو اگر سچے ہو تو روح کو پھیر کیوں نہیں لیتے؟
فَأَمَّآ إِن كَانَ مِنَ ٱلۡمُقَرَّبِينَ ﱗ ﴿٨٨﴾
پھر اگر وہ (خدا کے) مقربوں میں سے ہے
فَرَوۡحٞ وَرَيۡحَانٞ وَجَنَّتُ نَعِيمٖ ﱘ ﴿٨٩﴾
تو (اس کے لئے) آرام اور خوشبودار پھول اور نعمت کے باغ ہیں
وَأَمَّآ إِن كَانَ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلۡيَمِينِ ﱙ ﴿٩٠﴾
اور اگر وہ دائیں ہاتھ والوں میں سے ہے
فَسَلَٰمٞ لَّكَ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلۡيَمِينِ ﱚ ﴿٩١﴾
تو (کہا جائے گا کہ) تجھ پر داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے سلام
وَأَمَّآ إِن كَانَ مِنَ ٱلۡمُكَذِّبِينَ ٱلضَّآلِّينَ ﱛ ﴿٩٢﴾
اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہے
فَنُزُلٞ مِّنۡ حَمِيمٖ ﱜ ﴿٩٣﴾
تو (اس کے لئے) کھولتے پانی کی ضیافت ہے
وَتَصۡلِيَةُ جَحِيمٍ ﱝ ﴿٩٤﴾
اور جہنم میں داخل کیا جانا
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ حَقُّ ٱلۡيَقِينِ ﱞ ﴿٩٥﴾
یہ (داخل کیا جانا یقیناً صحیح یعنی) حق الیقین ہے
فَسَبِّحۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلۡعَظِيمِ ﱟ ﴿٩٦﴾
تو تم اپنے پروردگار بزرگ کے نام کی تسبیح کرتے رہو