اردو
سورة عبس - عدد الآيات 42
عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ ﰀ ﴿١﴾
(محمد مصطفٰےﷺ) ترش رُو ہوئے اور منہ پھیر بیٹھے
أَن جَآءَهُ ٱلۡأَعۡمَىٰ ﰁ ﴿٢﴾
کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا
وَمَا يُدۡرِيكَ لَعَلَّهُۥ يَزَّكَّىٰٓ ﰂ ﴿٣﴾
اور تم کو کیا خبر شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا
أَوۡ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكۡرَىٰٓ ﰃ ﴿٤﴾
یا سوچتا تو سمجھانا اسے فائدہ دیتا
أَمَّا مَنِ ٱسۡتَغۡنَىٰ ﰄ ﴿٥﴾
فَأَنتَ لَهُۥ تَصَدَّىٰ ﰅ ﴿٦﴾
اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو
وَمَا عَلَيۡكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ ﰆ ﴿٧﴾
حالانکہ اگر وہ نہ سنورے تو تم پر کچھ (الزام) نہیں
وَأَمَّا مَن جَآءَكَ يَسۡعَىٰ ﰇ ﴿٨﴾
اور جو تمہارے پاس دوڑتا ہوا آیا
فَأَنتَ عَنۡهُ تَلَهَّىٰ ﰉ ﴿١٠﴾
كَلَّآ إِنَّهَا تَذۡكِرَةٞ ﰊ ﴿١١﴾
فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ ﰋ ﴿١٢﴾
فِي صُحُفٖ مُّكَرَّمَةٖ ﰌ ﴿١٣﴾
قابل ادب ورقوں میں (لکھا ہوا)
مَّرۡفُوعَةٖ مُّطَهَّرَةِۭ ﰍ ﴿١٤﴾
جو بلند مقام پر رکھے ہوئے (اور) پاک ہیں
بِأَيۡدِي سَفَرَةٖ ﰎ ﴿١٥﴾
لکھنے والوں کے ہاتھوں میں
كِرَامِۭ بَرَرَةٖ ﰏ ﴿١٦﴾
جو سردار اور نیکو کار ہیں
قُتِلَ ٱلۡإِنسَٰنُ مَآ أَكۡفَرَهُۥ ﰐ ﴿١٧﴾
انسان ہلاک ہو جائے کیسا ناشکرا ہے
مِنۡ أَيِّ شَيۡءٍ خَلَقَهُۥ ﰑ ﴿١٨﴾
اُسے (خدا نے) کس چیز سے بنایا؟
مِن نُّطۡفَةٍ خَلَقَهُۥ فَقَدَّرَهُۥ ﰒ ﴿١٩﴾
نطفے سے بنایا پھر اس کا اندازہ مقرر کیا
ثُمَّ ٱلسَّبِيلَ يَسَّرَهُۥ ﰓ ﴿٢٠﴾
پھر اس کے لیے رستہ آسان کر دیا
ثُمَّ أَمَاتَهُۥ فَأَقۡبَرَهُۥ ﰔ ﴿٢١﴾
پھر اس کو موت دی پھر قبر میں دفن کرایا
ثُمَّ إِذَا شَآءَ أَنشَرَهُۥ ﰕ ﴿٢٢﴾
پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا
كَلَّا لَمَّا يَقۡضِ مَآ أَمَرَهُۥ ﰖ ﴿٢٣﴾
کچھ شک نہیں کہ خدا نے اسے جو حکم دیا اس نے اس پر عمل نہ کیا
فَلۡيَنظُرِ ٱلۡإِنسَٰنُ إِلَىٰ طَعَامِهِۦٓ ﰗ ﴿٢٤﴾
تو انسان کو چاہیئے کہ اپنے کھانے کی طرف نظر کرے
أَنَّا صَبَبۡنَا ٱلۡمَآءَ صَبّٗا ﰘ ﴿٢٥﴾
بے شک ہم ہی نے پانی برسایا
ثُمَّ شَقَقۡنَا ٱلۡأَرۡضَ شَقّٗا ﰙ ﴿٢٦﴾
پھر ہم ہی نے زمین کو چیرا پھاڑا
فَأَنۢبَتۡنَا فِيهَا حَبّٗا ﰚ ﴿٢٧﴾
پھر ہم ہی نے اس میں اناج اگایا
وَعِنَبٗا وَقَضۡبٗا ﰛ ﴿٢٨﴾
وَزَيۡتُونٗا وَنَخۡلٗا ﰜ ﴿٢٩﴾
وَحَدَآئِقَ غُلۡبٗا ﰝ ﴿٣٠﴾
وَفَٰكِهَةٗ وَأَبّٗا ﰞ ﴿٣١﴾
مَّتَٰعٗا لَّكُمۡ وَلِأَنۡعَٰمِكُمۡ ﰟ ﴿٣٢﴾
(یہ سب کچھ) تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے لیے بنایا
فَإِذَا جَآءَتِ ٱلصَّآخَّةُ ﰠ ﴿٣٣﴾
تو جب (قیامت کا) غل مچے گا
يَوۡمَ يَفِرُّ ٱلۡمَرۡءُ مِنۡ أَخِيهِ ﰡ ﴿٣٤﴾
اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا
وَأُمِّهِۦ وَأَبِيهِ ﰢ ﴿٣٥﴾
اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے
وَصَٰحِبَتِهِۦ وَبَنِيهِ ﰣ ﴿٣٦﴾
اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹے سے
لِكُلِّ ٱمۡرِيٕٖ مِّنۡهُمۡ يَوۡمَئِذٖ شَأۡنٞ يُغۡنِيهِ ﰤ ﴿٣٧﴾
ہر شخص اس روز ایک فکر میں ہو گا جو اسے( مصروفیت کے لیے) بس کرے گا
وُجُوهٞ يَوۡمَئِذٖ مُّسۡفِرَةٞ ﰥ ﴿٣٨﴾
اور کتنے منہ اس روز چمک رہے ہوں گے
ضَاحِكَةٞ مُّسۡتَبۡشِرَةٞ ﰦ ﴿٣٩﴾
خنداں و شاداں (یہ مومنان نیکو کار ہیں)
وَوُجُوهٞ يَوۡمَئِذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٞ ﰧ ﴿٤٠﴾
اور کتنے منہ ہوں گے جن پر گرد پڑ رہی ہو گی
تَرۡهَقُهَا قَتَرَةٌ ﰨ ﴿٤١﴾
(اور) سیاہی چڑھ رہی ہو گی
أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡكَفَرَةُ ٱلۡفَجَرَةُ ﰩ ﴿٤٢﴾