وَإِذَا كَالُوهُمۡ أَو وَّزَنُوهُمۡ يُخۡسِرُونَ ﰂ ﴿٣﴾
اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیں تو کم کر دیں
أَلَا يَظُنُّ أُوْلَٰٓئِكَ أَنَّهُم مَّبۡعُوثُونَ ﰃ ﴿٤﴾
کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اٹھائے بھی جائیں گے
يَوۡمَ يَقُومُ ٱلنَّاسُ لِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ﰅ ﴿٦﴾
جس دن (تمام) لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے
وَمَا يُكَذِّبُ بِهِۦٓ إِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ أَثِيمٍ ﰋ ﴿١٢﴾
اور اس کو جھٹلاتا وہی ہے جو حد سے نکل جانے والا گنہگار ہے
إِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِ ءَايَٰتُنَا قَالَ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ ﰌ ﴿١٣﴾
جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں
كَلَّاۖ بَلۡۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ ﰍ ﴿١٤﴾
دیکھو یہ جو (اعمال بد) کرتے ہیں ان کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے
كَلَّآ إِنَّهُمۡ عَن رَّبِّهِمۡ يَوۡمَئِذٖ لَّمَحۡجُوبُونَ ﰎ ﴿١٥﴾
بےشک یہ لوگ اس روز اپنے پروردگار (کے دیدار) سے اوٹ میں ہوں گے
ثُمَّ يُقَالُ هَٰذَا ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ ﰐ ﴿١٧﴾
پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے
كَلَّآ إِنَّ كِتَٰبَ ٱلۡأَبۡرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ ﰑ ﴿١٨﴾
(یہ بھی) سن رکھو کہ نیکوکاروں کے اعمال علیین میں ہیں
تَعۡرِفُ فِي وُجُوهِهِمۡ نَضۡرَةَ ٱلنَّعِيمِ ﰗ ﴿٢٤﴾
تم ان کے چہروں ہی سے راحت کی تازگی معلوم کر لو گے
خِتَٰمُهُۥ مِسۡكٞۚ وَفِي ذَٰلِكَ فَلۡيَتَنَافَسِ ٱلۡمُتَنَٰفِسُونَ ﰙ ﴿٢٦﴾
جس کی مہر مشک کی ہو گی تو (نعمتوں کے) شائقین کو چاہیے کہ اسی سے رغبت کریں
إِنَّ ٱلَّذِينَ أَجۡرَمُواْ كَانُواْ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ يَضۡحَكُونَ ﰜ ﴿٢٩﴾
جو گنہگار (یعنی کفار) ہیں وہ (دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے
وَإِذَا ٱنقَلَبُوٓاْ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِمُ ٱنقَلَبُواْ فَكِهِينَ ﰞ ﴿٣١﴾
اور جب اپنے گھر کو لوٹتے تو اتراتے ہوئے لوٹتے
وَإِذَا رَأَوۡهُمۡ قَالُوٓاْ إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ لَضَآلُّونَ ﰟ ﴿٣٢﴾
اور جب ان( مومنوں) کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ تو گمراہ ہیں
فَٱلۡيَوۡمَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنَ ٱلۡكُفَّارِ يَضۡحَكُونَ ﰡ ﴿٣٤﴾
تو آج مومن کافروں سے ہنسی کریں گے