خير جليس لا يمل حديثه
سورة طارق

اردو

سورة طارق - عدد الآيات 17

وَٱلسَّمَآءِ وَٱلطَّارِقِ ﰀ ﴿١﴾

آسمان اور رات کے وقت آنے والے کی قسم

وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلطَّارِقُ ﰁ ﴿٢﴾

اور تم کو کیا معلوم کہ رات کے وقت آنے والا کیا ہے

ٱلنَّجۡمُ ٱلثَّاقِبُ ﰂ ﴿٣﴾

وہ تارا ہے چمکنے والا

إِن كُلُّ نَفۡسٖ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٞ ﰃ ﴿٤﴾

کہ کوئی متنفس نہیں جس پر نگہبان مقرر نہیں

فَلۡيَنظُرِ ٱلۡإِنسَٰنُ مِمَّ خُلِقَ ﰄ ﴿٥﴾

تو انسان کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کاہے سے پیدا ہوا ہے

خُلِقَ مِن مَّآءٖ دَافِقٖ ﰅ ﴿٦﴾

وہ اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا ہوا ہے

يَخۡرُجُ مِنۢ بَيۡنِ ٱلصُّلۡبِ وَٱلتَّرَآئِبِ ﰆ ﴿٧﴾

جو پیٹھ اور سینے کے بیچ میں سے نکلتا ہے

إِنَّهُۥ عَلَىٰ رَجۡعِهِۦ لَقَادِرٞ ﰇ ﴿٨﴾

بےشک خدا اس کے اعادے (یعنی پھر پیدا کرنے) پر قادر ہے

يَوۡمَ تُبۡلَى ٱلسَّرَآئِرُ ﰈ ﴿٩﴾

جس دن دلوں کے بھید جانچے جائیں گے

فَمَا لَهُۥ مِن قُوَّةٖ وَلَا نَاصِرٖ ﰉ ﴿١٠﴾

تو انسان کی کچھ پیش نہ چل سکے گی اور نہ کوئی اس کا مددگار ہو گا

وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلرَّجۡعِ ﰊ ﴿١١﴾

آسمان کی قسم جو مینہ برساتا ہے

وَٱلۡأَرۡضِ ذَاتِ ٱلصَّدۡعِ ﰋ ﴿١٢﴾

اور زمین کی قسم جو پھٹ جاتی ہے

إِنَّهُۥ لَقَوۡلٞ فَصۡلٞ ﰌ ﴿١٣﴾

کہ یہ کلام (حق کو باطل سے) جدا کرنے والا ہے

وَمَا هُوَ بِٱلۡهَزۡلِ ﰍ ﴿١٤﴾

اور بیہودہ بات نہیں ہے

إِنَّهُمۡ يَكِيدُونَ كَيۡدٗا ﰎ ﴿١٥﴾

یہ لوگ تو اپنی تدبیروں میں لگ رہے ہیں

وَأَكِيدُ كَيۡدٗا ﰏ ﴿١٦﴾

اور ہم اپنی تدبیر کر رہے ہیں

فَمَهِّلِ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدَۢا ﰐ ﴿١٧﴾

تو تم کافروں کو مہلت دو بس چند روز ہی مہلت دو