خير جليس لا يمل حديثه
سورة علق

اردو

سورة علق - عدد الآيات 19

ٱقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلَّذِي خَلَقَ ﰀ ﴿١﴾

(اے محمدﷺ) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے (عالم کو) پیدا کیا

خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِنۡ عَلَقٍ ﰁ ﴿٢﴾

جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا

ٱقۡرَأۡ وَرَبُّكَ ٱلۡأَكۡرَمُ ﰂ ﴿٣﴾

پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے

ٱلَّذِي عَلَّمَ بِٱلۡقَلَمِ ﰃ ﴿٤﴾

جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا

عَلَّمَ ٱلۡإِنسَٰنَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ ﰄ ﴿٥﴾

اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جس کا اس کو علم نہ تھا

كَلَّآ إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَيَطۡغَىٰٓ ﰅ ﴿٦﴾

مگر انسان سرکش ہو جاتا ہے

أَن رَّءَاهُ ٱسۡتَغۡنَىٰٓ ﰆ ﴿٧﴾

جب کہ اپنے تیئں غنی دیکھتا ہے

إِنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلرُّجۡعَىٰٓ ﰇ ﴿٨﴾

کچھ شک نہیں کہ (اس کو) تمہارے پروردگار ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

أَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي يَنۡهَىٰ ﰈ ﴿٩﴾

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے

عَبۡدًا إِذَا صَلَّىٰٓ ﰉ ﴿١٠﴾

(یعنی) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے

أَرَءَيۡتَ إِن كَانَ عَلَى ٱلۡهُدَىٰٓ ﰊ ﴿١١﴾

بھلا دیکھو تو اگر یہ راہِ راست پر ہو

أَوۡ أَمَرَ بِٱلتَّقۡوَىٰٓ ﰋ ﴿١٢﴾

یا پرہیز گاری کا حکم کرے (تو منع کرنا کیسا)

أَرَءَيۡتَ إِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰٓ ﰌ ﴿١٣﴾

اور دیکھو تو اگر اس نے دین حق کو جھٹلایا اور اس سے منہ موڑا (تو کیا ہوا)

أَلَمۡ يَعۡلَم بِأَنَّ ٱللَّهَ يَرَىٰ ﰍ ﴿١٤﴾

کیااس کو معلوم نہیں کہ خدا دیکھ رہا ہے

كَلَّا لَئِن لَّمۡ يَنتَهِ لَنَسۡفَعَۢا بِٱلنَّاصِيَةِ ﰎ ﴿١٥﴾

دیکھو اگر وہ باز نہ آئے گا تو ہم (اس کی) پیشانی کے بال پکڑ گھسیٹیں گے

نَاصِيَةٖ كَٰذِبَةٍ خَاطِئَةٖ ﰏ ﴿١٦﴾

یعنی اس جھوٹے خطاکار کی پیشانی کے بال

فَلۡيَدۡعُ نَادِيَهُۥ ﰐ ﴿١٧﴾

تو وہ اپنے یاروں کی مجلس کو بلالے

سَنَدۡعُ ٱلزَّبَانِيَةَ ﰑ ﴿١٨﴾

ہم بھی اپنے موکلانِ دوزخ کو بلا لیں گے

كَلَّا لَا تُطِعۡهُ وَٱسۡجُدۡۤ وَٱقۡتَرِب۩ ﰒ ﴿١٩﴾

دیکھو اس کا کہا نہ ماننا اور قربِ (خدا) حاصل کرتے رہنا